Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
زینہ بہ زینہ
بس ایک بار تو اپنا بنا کے دیکھتا تُو
مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے
جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے
کیا بنانا تھا کہ کاغذ پہ بنا لیں آنکھیں
وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے
بظاہر جو نظر آتا ہے سب ویسا نہیں ہوتا
مری خامشی کے سوال سن مرا حال سن
جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی
ہماری مٹی ہماری غیرت کا مسئلہ ہے
میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے
پرند گھر پہ بلاتا ہوں
کوئی تو بات ہے ایسی جو اب نئی ہوئی ہے
کوئی تو بات تھی جو بات ختم کر دی ہے
<<
1
...
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
...
701
>>