Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
پاگل پن ہم جیسے پاگل کرتے ہیں
اپنی صحبت میں دن گزرتا ہے
مری آنکھوں میں کوئی اشک اتارا جائے
سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے
خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی
وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے
سماں غروب کا دل میں رہا ابھرتے ہوئے
یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میں
نبض ایام ترے کھوج میں چلنا چاہے
ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو
وہ جو لوگ اہل کمال تھے وہ کہاں گئے
بہت سے لوگ رستے میں کھڑے تھے
بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے
دیکھ کر بےساختہ ہنستے ہوئے
<<
1
...
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
...
701
>>