Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جب محبت میں مبتلا نہیں تھا
میں خطاکار ہونے والا تھا
دیپ خود ہی بجھانا پڑتا ہے
اپنا ہونا بنا رہا ہوں میں
ایسے چہروں سے پیار کرتے ہیں
اپنا رستہ بدل رہا ہوں میں
آیتِ صبر پڑھی سینہ کشادہ کیا ہے
اپنے جذبات کی تدفین کیا کرتا تھا
واسطہ اس سے جو پرانا ہے
تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا
تیرا وعدہ جھوٹا نکلا
میں تیرے ساتھ چل نہیں سکتا
تو جو اب میرے مقابل پہ کھڑا بولتا ہے
روز آتی ھے اِک صدا مجھ میں
<<
1
...
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
...
701
>>