Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
میں اس زمیں سے نہیں اور آسماں سے نہیں
کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی
پھر وہ گم گشتہ حوالے مجھے واپس کر دے
یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو
تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو
یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہے
لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیں
قوم کا غیر سنجیدہ رویہ !
سفر کہاں سے شروع ہوا تھا
میں نے کہا اُس نے کہا
نہ میرا مکان ہی بدلا ہے، نہ تیرا پتا کوئی اور ہے
سجی چودھویں کر رات تھی آباد تھا کمرہ ترا
ناقد اعظم
اک دوات ایک قلم ہو تو غزل ہوتی ہے
<<
1
...
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
...
701
>>