دلاور فگارمزاحیہ شاعری

سجی چودھویں کر رات تھی آباد تھا کمرہ ترا

دلاور فگار کی مزاحیہ شاعری

( ابن انشاء سے معذرت کے ساتھ )

سجی چودھویں کر رات تھی آباد تھا کمرہ ترا
ہوتی رہی دھن تک دھنا بجتا رہا طبلہ ترا

شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق نامہ بر
تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا

ہیں جتنے دیدہ ور تو سب کا منظور نظر
گاما ترا، پھجا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا

شخص آیا بزم میں جیسے سیاہی رزم میں
کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا

میں بھی تھا حاضر بزم میں جب تو نے دیکھا ہی نہیں
بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا

اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کر لوٹا ہے
اب یہ کہتا ہے آدھا مرا آدھا ترا

دلاور فگار

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button