Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
بدشگونی کا چکر
نازو نعم ملے ہیں تو بگڑے ہوئے ہو، ہاں
قیاس
تو مری جان مرے دل ميں سمانا ،ہاں ناں
بے سبب ،بے حساب عشقا وے
سانسوں میں اک شور بپا ہے
ہجوم۔ عاشقاں اب تک لب۔ دریا سلامت ہے
سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں گی
شہر نقشہ بنا ہے مقتل کا
مرے طبیب نے مجھ سے کہا،علاحدہ ہے
تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
یہ اشتراک فرح، اب ہمیں گوارا نہیں
میرے آجر مجھکو مت روکو
نا لۂ فراق
<<
1
...
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
...
701
>>