Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اُلجھنوں میں پڑا نہیں تھا مَیں
سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں
رات کے پچھلے پہر
تخیل سے بھی ماورا دیکھ لیتا
وہ ہجر ، وہ ستم کہاں
دل غموں کی لگاوٹوں میں تھا
یہ اپنے آپ سے نمٹ نہیں سکی
ناصر بزمِ جاناں سے اَب جانا ہو گا
دِلاسا
خیمے ، لہو ، نوکِ سناں
اُس نگر گئے تم بھی
میں عشق ذات ہوں چہرہ بدل کے آئی ہوں
اسی وادی میں تم اب جادہ پیما ہو جہاں میں تھا
شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں
<<
1
...
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
...
701
>>