Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کسی بھی سنگِ ملامت سے جی نہیں بھرتا
جو گریزاں ہو نہ بیباک ملے
وہ جو ہر لب پہ ہے رنگین فسانے کی طرح
کیف جنوں سے دیر و حرم بولنے لگ
ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے
پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں
جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے
پھر کسی آس میں رہ کر دیکھیں
میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ
کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے
دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں
روشنی کا نشان چاہتے ہیں
اب لطف و بے خودی کے وہ موسم نہیں رہے
<<
1
...
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
...
701
>>