Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دل چاک ہے سو داغ بھی دامن سے لگے ہیں
وہ بت گرفتہ دلوں کا نصیب ہو کر بھی
راہ چلتے ہوئے راہی کا گلہ کون کرے
مری فصیلِ انا میں شگاف کر کے رہے
زلف ِ جاناں تری خوشبو کے سہارے تک ہے
جب کسی درد کو سہلاتے ہیں
حشر کیسا بھی ہو برپا نہیں دیکھا جاتا
سب سمجھ کر بھی زیادہ نہ سمجھ
یوں تو کیا کیا راحتیں دامانِ ساحل میں نہیں
مردہ عورت
پہاڑی کھیت میں!
ماں کی مامتا
سپیرا
ماں کا دل
<<
1
...
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
...
701
>>