Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
امّاں
صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے
وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار
نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا
وہ علم میں جس کے اول سے ہر رازِ نہانِ ہستی ہے
سب کو ادراکِ زیاں گِر کے سنبھلنے سے ہُوا
وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن
<<
1
...
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
...
701
>>