Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
رِدائے شب نہیں رہی
بارِ گراں کا ماجرا چلتا رہا تھا رات بھر
اَب کہاں غم شناس ہے میرا
لب بستہ ہی رہا میں مگر کچھ سنا تو تھا
لب بستگیِ دل! تجھے معلوم نہیں ہے
جو اُس نے غم لکھے سارے
شام کی ڈھلتی ہوئی پرچھائیوں کے تذکرے
ریشم کا کیڑا
وصل میں ہم نے جو گزاری ہے
اب بھی مجھ کو شکوہ چشمِ نم سے ہے
دل میں پیدا جو حسد ہو جائے
تیور جبینِ یار کے مبہم نہیں رہے
بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا
بھرا پڑا ہے یہاں پر نصاب لفظوں سے
<<
1
...
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
...
701
>>