اردو غزلیاتساحر لدھیانویشعر و شاعری

خانہ آبادی

ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم

خانہ آبادی

ایک دوست کی شادی پر

ترانے گونج اٹھے ہیں فضا میں شادیانوں کے
ہوا ہے عطر آگیں ذرّہ ذرّہ مسکراتا ہے

مگر دور ایک افسردہ مکاں میں سرد بستر پر
کوئی دل ہے کہ ہر آہٹ پہ یوں ہی چونک جاتا ہے

مری آنکھوں میں آنسو آ گئے نادیدہ آنکھوں کے
مرے دل میں کوئی غمگین نغمہ سرسراتا ہے

یہ رسمِ انقطاعِ عہدِ الفت، یہ حیاتِ نو
محبت رو رہی ہے اور تمدن مسکراتا ہے

یہ شادی خانہ آبادی ہو میرے محترم بھائی
مبارک کہہ نہیں سکتا مرا دل کانپ جاتا ہے

ساحر لدھیانوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button