آپ کا سلاماردو غزلیاتتجدید قیصرشعر و شاعری

اس زمیں آفتاب سے باہر

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

اس زمیں آفتاب سے باہر
ایک دنیا ہے خواب سے باہر

ڈھونڈتا ہے مجھے حجاب میں وہ
اور میں ہوں حجاب سے باہر

گفتگو کر رہی ہے خاموشی
خامشی کے نصاب سے باہر

ایک پتّی تمہارے ہونٹوں پر
کھل رہی ہے گلاب سے باہر

مجھ میں اُتری ہوئی ہے شام کوئی
روز و شب کے حساب سے باہر

تجدید قیصر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button