آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

گھما لیا ترا کنگن بھی اور کلائی بھی

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

گھما لیا ترا کنگن بھی اور کلائی بھی
نہ کام آئی تری زور آزمائی بھی

کسی کا ہجر منانا کسی کی بانہوں میں
یہی وفا بھی ہے اور کارِ بے وفائی بھی

ہمیں جو شہر دکھایا گیا وہ مصر نہ تھا
اگرچہ خواب میں کنعان بھی تھا ، بھائی بھی

تمھاری یاد عجب مخمصے میں رکھتی ہے
تمھیں دعائیں بھی دیتا ہوں اور دہائی بھی

بچھڑ کے جانا ہے ؟ جاؤ ، وضاحتیں نہ کرو
نہیں ضروری کوئی رسمی کاروائی بھی

ہمارے لمسِ کرامت زدہ سے ہار گئی
اگرچہ پہلو میں کچھ دیر کسمسائی بھی

تجھے گنوا کے ترے ہجر سے مزین ہیں
یہی خسارہ ہے اپنا یہی کمائی بھی

جناب شیخ نے اب حور پر لگا دیا ہے
ہمیں تو راس نہ آئی یہ پارسائی بھی

میاں جنوں کا خریدار اب نہیں ملتا
نہیں بکے گا تو قیمت اگر گرائی بھی

سوائے اپنے کوئی داد بھی نہیں دیتا
عجیب کارِ اذیت ہے خود نمائی بھی

نزولِ آیتِ اقرار کے سمے اظہر
وہ آنکھ اس نے اٹھائی بھی اور جھکائی بھی

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button