اردو غزلیاتشاہد ماکلیشعر و شاعری

کہیں شب کے کینوس پر

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

کہیں شب کے کینوس پر نیا دن ابھر رہا ہے
مرا داغ نارسائی مرا نقش بن گیا ہے

میں چلا ہوں جنگلوں سے کسی باغ آتشیں تک
مرا زاد خار و خس ہے مرا رنگ اڑا ہوا ہے

جو ہے بزم ہم سے خالی وہ رہے گی غم سے خالی
جو جگہ خوشی سے پر ہے وہ ہمارا ہی خلا ہے

ابھی دیکھئے گا ہر سو مرا خاک بوس ہونا
کہ ہوائیں چل پڑی ہیں زر گل بکھر چلا ہے

دم رفتہ کی صفت ہے شب و روز میں نہ ہونا
جہاں وقت چل رہا ہے وہاں میرا کام کیا ہے

میں یکایک اپنے غم سے ترے غم میں آ گیا ہوں
ابھی دھوپ پڑ رہی تھی ابھی مینہ برس رہا ہے

مرا باعث نمو ہے ترے غم کی زہر ناکی
جو فضاؤں میں دھواں ہے وہ درخت کی غذا ہے

متحرک اس قدر ہے مرا گرد باد ہستی
کوئی دور سے جو دیکھے تو لگے رکا ہوا ہے

کہیں چاند کی کشش سے ہوا مد و جزر پیدا
کسی تاب رخ سے مجھ میں یہ تلاطم اٹھ رہا ہے

جسے آپ کہہ رہے ہیں کہ غلاف ہے ہوا کا
وہ زمیں کے چار جانب مری آہ کی فضا ہے

انہی دل کی سختیوں سے کبھی اشک ابل پڑیں گے
کہ جہاں پہاڑیاں ہوں وہیں چشمہ پھوٹتا ہے

کہیں مثل آئنہ ہیں متوازی کائناتیں
وہاں ایک آدمی ہے جو ہماری شکل کا ہے

وہ جو وسط سینہ میں ہے وہ فضا نہیں کہیں بھی
وہاں موسم اور کچھ ہے جہاں خط استوا ہے

میں پڑا ہوا ہوں خود میں کہیں بے وجود شاہدؔ
مری روح گم شدہ ہے مرا جسم لاپتہ ہے

شاہد ماکلی

post bar salamurdu

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button