آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

دور سے دیکھ لوں

میر حسن کی ایک اردو غزل

دور سے دیکھ لوں، یا تصویر نکالوں بٹوے سے
یہ کب کہا ہے کہ وہ شخص فقط ہمارا ہو

بس ایک خواہش ہے، وہ آس پاس رہتا ہو
یہ کب کہا ہے کہ اس کا ہر لمحہ ہمارا ہو

وہ دور رہ کے بھی دل کے قریب اتنا ہے
جیسے اندھیری شب میں کوئی ستارا ہو

کبھی وہ تھک کے زمانے سے لوٹنا چاہے
تو میرے دل کا گوشہ ہی اس کا کنارا ہو

میں اس کو مانگوں بھی تو کس حق سے مانگوں
محبتوں میں کہاں لازم ہے سب ہمارا ہو

وہ مجھ سے دور رہے، پھر بھی دل یہی چاہے
خدا کرے اسے ہر موڑ پر سہارا ہو

اگر نصیب میں ملنا نہیں لکھا، نہ سہی
بس ایک بار تو اسے دیکھنا دوبارہ ہو

وہ میرے پاس نہ آئے، مجھے قبول ہے یہ
بس اس کے حصے میں خوشیوں کا ہر نظارا ہو

ہمیں تو چاہت نے بس اتنا سا حق دیا ہے، حسنؔ
وہ مسکرا دے تو دل کو بھی کچھ سہارا ہو

میر حسن

post bar salamurdu

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button