آپ کا سلاماردو غزلیاتشجاع شاذشعر و شاعری

موت! راستہ تیرا مختصر نہیں ہوتا

شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

موت! راستہ تیرا مختصر نہیں ہوتا
جستجوئے منزل میں اب سفر نہیں ہوتا

ایک روشنی اُس کی رہنمائی کرتی ہے
جس پہ ماں کا سایہ ہو دربدر نہیں ہوتا

زندگی کی خاطر جو زندگی کو ہارا ہو
ایسا شخص کوئی بھی معتبر نہیں ہوتا

جب سے بس گئی تیری یاد میرے سینے میں
اب وہاں سے سانسوں کا بھی گزر نہیں ہوتا

بھر دوں گا زمانے میں اپنی روشنی سے نُور
ماہتاب کو شب کا کوئی ڈر نہیں ہوتا

اپنے دل کا دروازہ کھول کر میں بیٹھا ہوں
سب اِ سی میں رہتے ہیں جن کا گھر نہیں ہوتا

قید کر لیا اُس نے اپنی سانس میں مجھ کو
شاذؔ اب میں خوشبو سا دربدر نہیں ہوتا

شجاع شاذ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button