آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری
دمِ زندگی! چل ایک نیا الزام لیا جائے
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
دمِ زندگی! چل ایک نیا الزام لیا جائے
واعظ کے گھر سے کوئی احرام لیا جائے
اگر سجانا ہے ملک کو اعزاز و وقار سے
تو نوخیز پرندوں کے ہاتھوں سے جام لیا جائے
عالمِ تنہائی کے بعد اب واجب ہے
سر محفل اس کا نام لیا جائے
وارثانِ ملک جانتے ہیں یہ حساب خوب
کس طرح، کب، کس کا یہاں سلام لیا جائے
وقت کے رہتے سنبھلنا بھی ضروری ہے
اس سے پہلے وقت کے ہاتھوں انتقام لیا جائے
شہرِ نایاب میں سچ بولنے والوں کے لیے
ابر رحمت سے محبت کا جام لیا جائے
نگار! ہمیشہ سچ کی حمایت میں کھڑی رہنا
چاہے اپنے سر الزام پہ الزام لیا جائے
نگار فاطمہ انصاری








