آپ کا سلاماردو غزلیاترینو نیّرؔشعر و شاعری

کسی مٹی کی جانب سے

رینو نیّرؔ کی اردو غزل

किसी मिट्टी की जानिब से कि कूज़ागर की जानिब से
बहुत मुश्किल है बाहर का सफ़र अंदर की जानिब से

کسی مٹی کی جانب سے کہ کوزہ گر کی جانب سے
بہت مشکل ہے باہر کا سفر اندر کی جانب سے

तुम्हारे साथ कुछ पल और चलना चाहते थे हम
सदाएं आ रही थीं पर हमारे घर की जानिब से

بتمہارے ساتھ کچھ پل اور چلنا چاہتے تھے ہم
صدائیں آ رہی تھیں پر ہمارے گھر کی جانب سے

अगर तुम दोस्त हो तो दोस्ती का पास रख लेना
हज़ारों तंज़ आयेंगे ज़माने भर की जानिब से

اگر تم دوست ہو تو دوستی کا پاس رکھ لینا
ہزاروں طنز آئیں گے زمانے بھر کی جانب سے
ये किस उम्मीद में तुम हार कर दुनिया को बैठे हो ?
कभी आवाज़ आई है किसी पत्थर की जानिब से?

یہ کس امید میں تم ہار کر دنیا کو بیٹھے ہو ؟
کبھی آواز آئی ہے کسی پتھر کی جانب سے ؟

رینو نیّرؔ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button