اردو غزلیاتبلال اسعدشعر و شاعری

رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو

ایک اردو غزل از بلال اسعد

رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو
یعنی یہ زہر مری ذات کا حاصل ہی نہ ہو

رات سورج کی طرح تھا مری چوکھٹ پہ چراغ
یہ مری شب کی مناجات کا حاصل ہی نہ ہو

دیکھتا ہوں میں جو مہتاب تو شک ہوتا ہے
یہ کہیں تیرے جمالات کا حاصل ہی نہ ہو

خاک در خاک جو ہم بنتے بکھرتے ہیں یہاں
یہ ہنر ارض و سماوات کا حاصل ہیں نہ ہو

تم جسے رات کی رعنائی سمجھ بیٹھے ہو
وہ دیا شب کے مفادات کا حاصل ہی نہ ہو

خود سے بیزار خموشی کو پکارو کیسے
میرا آوازہ مری مات کا حاصل ہی نہ ہو

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button