سائٹ کا نقشہ
- یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے
- اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے
- شاہد ذکی کی شاعری
- پھر کسی حادثے کا در کھولے
- کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے
- یوں تو شیرازۂ جاں کر کے بہم اٹھتے ہیں
- اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
- ایک زاہدہ، ایک فاحشہ
- بُڈّھا کھوسٹ
- بدصورتی
- راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
- ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
- کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
- بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
