Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دل کو یہ روگ تیرے لگانے سے آ لگا
ایک منزل ہے ایک جادہ ہے
مرا باطن مجھے ہر پل نئی دنیا دکھاتا ہے
میں نے بخش دی تری کیوں خطا تجھے علم ہے
وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے
یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے
تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست
تجھے خبر ہے تجھے ستاتا ہوں اس بنا پر
بہاؤں گا نہ میں آنسو نہ مسکراؤں گا
بہار آنے کی امید کے خمار میں تھا
مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا
مکاں سے ہوگا کبھی لا مکان سے ہوگا
نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گا
وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا
<<
1
...
447
448
449
450
451
452
453
454
455
456
457
...
701
>>