آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر الیاس عاجز

تاج ہاؤس

ایک اردو افسانہ از ڈاکٹر الیاس عاجز

سکول کی عمارت گہرے سرمئی اور سفید رنگ کی تھی جس میں ایک خاص وقار اور سنجیدگی کا تاثر جھلکتا تھا۔سکول کے مرکزی ہال کی بالکونی پر بڑے حروف میں سکول کا نصب العین کندہ تھا: "علم بڑی دولت ہے”۔سکول کی عمارت کے سامنے ایک وسیع اور ہرا بھرا میدان جہاں صبح کی اسمبلی ہوتی اور کھیل کے وقفے میں بچوں کا شور گونجتا۔ اطراف میں سدا بہار پودوں کی کیاریاں ، جنہیں مالی روزانہ اپنے خون پسینے سے سینچا کرتا۔سکول کی مضبوط چار دیواری کے اندر شیشم اور پیپل کے گھنے اور بلند وبالا درخت ، جن کے پتوں کی سرسراہٹ صبح کی چہل پہل کا اعلان کرتی اور شب سیاہ کی خاموشی کا فسوں ٹوٹ جاتا۔ان بوڑھے اور بوسیدہ درختوں کے نیچے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بچھے ہوئے پرانے اور میلے ٹاٹ اور بوریاں جن پر درجہ ششم اور ہفتم کے طلباء کتابیں کھولے سبق دہراتے اور علمی تشنگی کو دور کرنے کی اپنی سی سعی کرتے نظر آتے۔کمرے اور بینچ صرف ہشتم،نہم اور دہم جماعتوں کے طلباء کا مقدر تھے۔

نہم کلاس کا کمرہ نسبتاً سادہ جس کی دیواروں کا رنگ ہلکا پیلا پڑ چکا ہے اور تختہ سیاہ ابھی ابھی صاف ہوا ہے جس کے کناروں پر چاک کا سفید پاؤڈر نظر آ رہا ہے۔ پہلی قطار میں چند ذہین طلباء سر جھکائے بیٹھے ہیں جبکہ پچھلی قطاروں میں کچھ طلباء ایک دوسرے سے ہلکی آواز میں سرگوشیاں کر رہے ہیں۔کمرے میں پرانی لکڑی کی بینچوں اور ڈیسکوں کی ہلکی سی مانوس بو پھیلی ہوئی ہے۔چھت کا پنکھا ایک سست رفتار سے گھوم رہا ہے، جو وقفے وقفے سے کرّر کرّر کی آواز پیدا کرتا۔علی، تاج کمہار کا بیٹا آخری سے دوسری بینچ پر خاموشی سے بیٹھا ہوا ہے جس کی ملگجی یونیفارم ،کاپیوں اور کتابوں کے مڑے ہوئے کنارے،بستے کی حالتِ زار ،سر کے بکھرے ہوئے بال، چہرے سے عیاں پریشانی اور جھجک کی ایک واضح لہر،جو علم کی دولت سے مالا مال ہونے کے خوابوں کے چکنا چور ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔

ماسٹر شفیع صاحب، جو اپنی اصول پسندی اور نرم مزاجی کے لیے مشہور تھے،نے اپنی میز پر بیٹھے ایک رجسٹر میں حاضری لگاتے ہوئے کمرہ جماعت پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی۔

علی تاج: ییس۔۔۔یس سر۔علی نے کپکپاتے ہوئے اپنے ہونے کا ثبوت دیا۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جائے گی۔

علی! تم ذرا میرے پاس آؤ۔

ماسٹر شفیع صاحب نے نرم و شفیق لہجے میں کہا۔

علی کا رنگ فق ہو گیا۔وہ آہستگی سے اٹھا اور کانپتے قدموں سے بمشکل ماسٹر صاحب کی میز تک پہنچا۔باقی کلاس اچانک خاموش ہو کر اس کی غربت اور بے بسی کا تماشا دیکھنے کو بیتاب ہوگئی۔

ج جی، ماسٹر جی۔علی نے سر جھکا کر، دبی آواز میں کہا۔

بیٹھو علی بیٹا، تم پڑھائی میں بہت اچھے ہو، ذہین ہو اور تمہارا رویہ بھی قابل تعریف ہے، لیکن پچھلے دو مہینے سے تمہاری فیس جمع نہیں ہوئی۔ دفتر سے ہیڈ ماسٹر صاحب کا سخت نوٹس آیا ہے۔ماسٹر شفیع صاحب نے چشمہ اتارنے کے بعد صاف کر کے میز پر رکھتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔جی سرجی، مجھے معلوم ہے۔ میں روز سوچتا ہوں کہ آج ابا کو بتاؤں گا، لیکن۔اس نے لجاجت بھری آواز میں سرگوشی کی۔

لیکن کیا؟ماسٹر صاحب نے ہمدردانہ استفسار کیا۔

ابا کہتے ہیں،پچھلے تین مہینوں سے بارشیں ہو رہی ہیں اور برتن نہیں بن سکے۔ابا نے تین چار جگہوں پر اپنے کام سے ہٹ کر مزدوری ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی ہے مگر بات نہیں بنی۔بارشوں نے ہنستی بستی زندگی کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا ہے۔علی بولتا جا رہا تھا اور ماسٹر شفیع صاحب ہاتھوں پر ٹھوڑی ٹکائے سن رہے تھے۔علی کی آواز میں کربل جیسا کرب اور بحر الکاہل جیسی گہرائی تھی۔

ابا کا چاک تک سیلاب کی نذر ہو چکا ہے۔وہ اب صبح سے شام تک مزدوری ڈھونڈتے ہیں، لیکن کام نہیں ملتا۔گھر میں نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔ ابا نے کہا ہے کہ اگر کام مل جاتا ہے تو اگلے ہفتے فیس جمع کرا دیں گے، لیکن… شاید اس ہفتے بھی ممکن نہ ہو۔علی نے امید و یاس کے بین بین جواب دیا۔ہممم۔ میں تمہاری پریشانی سمجھتا ہوں بیٹا! تم بالکل سچ کہہ رہے ہو۔ماسٹر صاحب نے علی کی باتوں میں چھپے کرب کو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے کہا۔

مجھے پڑھنا ہے سر جی۔۔۔ اگر سکول سے میرا نام کٹ گیا تو… میری ماں کا خواب۔۔۔۔۔ ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔اپنا جملہ پورا کرتے کرتے اس کا گلا رندھ گیا اور آواز جیسے حلق میں پھنس کر رہ گئی۔تمھاری بات بالکل ٹھیک ہے مگر اگلے مہینے بورڈ کی رجسٹریشن جانے والی ہے۔کوشش کرنا کہ اس سے پہلے تمھارے مکمل واجبات ادا ہو جائیں۔ماسٹر شفیع صاحب نے نرم مگر فیصلہ کن انداز میں کہا۔

سیلاب زدہ کمرے کی دیواروں سے سل کی بو اٹھ رہی تھی جو ناگوار تو نہیں مگر خوشگواری کی کیفیت سے بھی عاری تھی۔دیوار میں بنی ہوئی خالی الماریاں جن میں سیلاب سے قبل کھانے پینے کے چھوٹے موٹے برتن پڑے ہوتے تھے اب تاجے کمہار کی تاراجی کا نوحہ بیان کر رہی تھیں جو اس وقت ڈھیلی سی ادوائن والی ننگی چارپائی پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا جس کے دیوداری بالوں پر بارشوں کی وجہ سے ٹپکن کے گہرے نشان ثبت ہوچکے تھے اور اب کہیں کہیں فنگس کے سفید نیلگوں دھبے بن رہے تھے۔پاس اس کی قانع و شکر گزار بیوی فاطمہ ایک پیڑھی پر بیٹھی آلو چھیل رہی تھی جو سیلاب سے پہلے دو روپے کلو تھے مگر اب بازار سے دس روپے کلو بھی بمشکل ملتے تھے۔باہر دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور فاطمہ نے اپنے لخت جگر کے قدموں کی آہٹ کو پہچانتے ہوئے پوچھا۔

آج سکول سے اتنی جلدی کیوں آ گئے بیٹا؟اس کی آواز میں اضطراب تھا۔

کل تہری فیس کے ساتھ بورڈ میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ ہے اور ہیڈماسٹر صاحب نے کہا ہے کہ آج ہر صورت اپنی مکمل فیس جمع کراؤ۔علی نے سلام کے بعد مایوسی میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔

پتر ! میں نے ہزار جتن کیے مگر بے سود،اب تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا سے محنت مشقت کا نام ہی اٹھ گیا ہو۔مزدور کے لیے بیگار بھی نہیں۔تاجے نے بے بسی سے کہا جو چارپائی کی پٹی پر زور دے کر اٹھ بیٹھا تھا۔علی بیٹا! پریشان نہ ہونا،ہم تمہاری فیس کا بندوبست ضرور کرلیں گے۔فاطمہ نے بیٹے کو پر امید لہجے میں یقین دلاتے ہوئے کہا۔مگر اماں! ان دگرگوں حالات میں آپ مجھے پڑھنے پر کیوں مجبور کر رہے ہیں؟مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ آپ اور ابا نے مجھے پڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر اب حالات اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتے تو اس میں آپ لوگوں کا کیا قصور ہے؟سیلاب سے قبل چاک چل رہا تھا اور برتن دھڑا دھڑ بن رہے تھے۔ہمارے مالی حالات اچھے نہیں تھے تو اتنے برے بھی نہیں تھے جتنے سیلاب کے بعد ہو گئے ہیں۔علی نے معروضی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی والدہ سے کہا جو آلوؤں کو چھیلنے کے بعد اس وقت ان کے چھلکے اکٹھے کر رہی تھی۔

بیٹا!میں چاہتی ہوں کہ تم پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بنو اور خوب نام کماؤ تاکہ ہماری غربت ختم ہو سکے۔فاطمہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔وہ اپنی قناعت پسندی کے باعث تاجے کمار کی غربت کے ساتھ سمجھوتہ تو بڑی خوش اسلوبی سے کر چکی تھی مگر کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے علی کے اچھے اور شاندار مستقبل کے تانے بانے بھی بنتی رہتی تھی۔عبادت گزاری میں اس کا دل خوب لگتا تھا۔نماز کے بعد وہ گڑگڑا کر دعائیں مانگا کرتی تھی اور اسے پورا یقین تھا کہ زمین و آسمان کا مالک اس کی دعائیں ضرور پوری کرے گا۔اس کا یہ راسخ عقیدہ تھا کہ مانگنے والا ضرور غافل ہو سکتا ہے مگر عطا کرنے والا حی قیوم ہے۔

علی اجازت لے کر کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔چھٹی میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ماسٹر شفیع صاحب نے علی تاخیر سے آنے کا سبب پوچھا،مگر علی کوئی معقول جواب نہ دے سکا۔وہ فیصلہ کر چکا تھا۔اسے اس بات کی سمجھ آگئی تھی کہ پڑھنے کے بعد بھی نوکری مجھے قسمت سے ملے گی مگر کام کرنے سے مجھے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں روک سکتا۔چھٹی کی گھنٹی بجی۔اس نے بستہ اٹھایا۔ماسٹر شفیع صاحب کو جھک کر مؤدبانہ سلام کیا۔کمرہ جماعت کی چھت اور دیواروں کو ایک حسرت بھری نگاہ سے دیکھا اور باہر نکل آیا۔سکول کے صحن سے ہوتا ہوا وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھا جہاں جلی حروف میں لکھا ہوا تھا: "خدا حافظ”اس نے دبی ہوئی آواز میں دل ہی دل میں کہا "خدا حافظ”

ماسٹر شفیع صاحب کو تدریسی فرائض سے سبکدوش ہوئے یہ دسواں سال تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ لے رہے تھے۔ان کے اعزاز میں جملہ اساتذہ ایک ظہرانہ دے رہے تھے اور انھوں نے ماسٹر شفیع صاحب کو بھی مدعو کیا تھا۔یہ پندرہ اپریل کا ایک بیٹا ہی خوشگوار دن تھا۔ماسٹر شفیع صاحب اپنی سائیکل پر سوار سکول جا رہے تھے۔پختہ سڑک کے دونوں طرف گندم کے وسیع کھیت لہلہا رہے تھے جن کی بالیاں سبز سے سنہری رنگت کی طرف مائل تھیں۔شہباز پور میں داخل ہوتے ہی لب سڑک "علی کینیڈا والے”کی قریباً چار کنال پر مشتمل ایک عالی شان کوٹھی تھی،جو اپنے مکینوں کی محنتِ شاقہ اور با ذوق ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔بیس فٹ چوڑے خوبصورت آہنی صدر دروازے کے داہنے ستون پر ایک بڑا،سیاہ سنگ مرمر کا کتبہ نصب تھا جس پر سنہری حروف سے "تاج ہاؤس” کندہ تھا۔

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button