آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکویتا غزل مہرا

گوارہ نہیں آج کل کی جدائی

کویتا غزل مہرا کی ایک اردو غزل

گوارہ نہیں آج کل کی جدائی
مجھے صدیاں لگتی ہے پل کی جدائی

جدائی کا مطلب نہیں جانتا وہ
جو دیتا ہے مچھلی کو جل کی جدائی

مجھے چھوڑ کر تم ابھی جا رہے ہو
نہ بن جائے اک دن ازل کی جدائی

ہم اک دوسرے کے لئے جی رہے ہیں
جدا کیا کرے گی اجل کی جدائی

جدائی کو سر پر اٹھا کر تو دیکھے
بڑی جس کو لگتی ہے ہلکی جدائی

وہ صحرا میں لیلیٰ کو دن رات ڈھونڈے
نہ مانگے کبھی قیس تھل کی جدائی

وہ اک دوسرے کی محبت میں خوش ہیں
نہ مانے گی تتلی کنول کی جدائی

نہ باتیں کرو دور جانے کی ہمدم
کٹھن ہے بڑی اِس غزل کی جدائی

کویتا غزل مہرا

post bar salamurdu

کویتا غزل مہرا

میرا نام کویتا ہے میں ہندو خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں سیالکوٹ میں رہتی ہوں۔ میں نے ایم فل اردو کیا ہے - میں پہلے یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھائی تھی- اب میری 16 گریڈ کی جاب ہو گئی ہے - میں ایف جی پبلک سکول نمبر 1 میں ٹی جی ٹی کی پوسٹ پر ہوں -میں ایک شاعرہ اور کالم نگار بھی ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button