آپ کا سلاماردو غزلیاتزین علی آصفشعر و شاعری
کشتی رہی بھنور میں کنارا نہیں ملا
زین علی آصف کی ایک اردو غزل
کشتی رہی بھنور میں کنارا نہیں ملا
الفت کے راستے میں سہارا نہیں ملا
راہِ وفا میں ہم کو ملے ہیں عدو بہت
لیکن کوئی بھی یار ہمارا نہیں ملا
دل کو غمِ فراق بھلانے کے واسطے
اظہار کے سوا کوئی چارا نہیں ملا
تم سے ہوا ہے قطع تعلق تو اس کے بعد
سارے جہاں میں ثانی تمہارا نہیں ملا
ہر شعر مجھ کو خونِ جگر کے عوض ملا
یہ فن کسی کے در سے اُدھارا نہیں ملا
پیغامِ عشق شہر عداوت میں رائگاں
ہو جس کو آج عشق گوارا ” نہیں ملا ”
مایوس ہو نہ زینؔ کہ ایسا نہیں کوئی
جس کو محبتوں میں خسارا نہیں ملا
زین علی آصف








