آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکرن منتہیٰ

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا

کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا
آتا ہے یاد ہم کو دل بے ثمر ہمارا

کوئی نہیں جو پوچھے رخ ہے کدھر ہمارا
آخر کسے بتائیں کیا ہے سفر ہمارا

ہم بھی سفر کے ہاتھوں دو لخت ہوگئے ہیں
راہوں کو سونپ آئے ہم ہمسفر ہمارا

وحشت کے اس مکاں میں کچھ پل ہوئے تھے ہم کو
دیواریں ڈھونڈتی تھیں کچھ پل میں سر ہمارا

ہجرت کے اس جزیرے ،کچھ دیر تم رکے تھے
اب تک ہرا بھرا ہے دامانِ تر ہمارا

لو ہم نے بانٹ لی ہے ساری حیات تم سے
آدھا سفر تمہارا آدھا سفر ہمارا

کرن منتہیٰ

post bar salamurdu

کرن منتہیٰ

کرن منتہیٰ کا تعلق خوشاب سے ہے نسائی لہجے کی توانا شاعرہ ہیں لاہور میں مقیم ہیں جہاں ایک ٹی وی پر اینکر ہیں نوجوان نسل کی نمائندہ شاعرہ ہیں کرن منتہیٰ نے اپنی شاعری اور خوبصورت ادائی سے اپنے ہونے کا بہت توانا اعلان کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button