اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

نظروں سے بصیرت کی نہاں

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

نظروں سے بصیرت کی نہاں کچھ بھی نہیں ہے
سب کچھ ہے جہاں اور جہاں کچھ بھی نہیں ہے

ہم مٹ گئے اس فطرت‌ آشفتہ کی خاطر
حالانکہ وہ غارت گر جاں کچھ بھی نہیں ہے

دل کی جو نہ کہیے تو زباں کاشف اسرار
اور دل کی جو کہیے تو زباں کچھ بھی نہیں ہے

دل والوں کو دل والوں سے ہے حرف و حکایت
ظاہر میں محبت کا نشاں کچھ بھی نہیں ہے

رنگین و نظر سوز مناظر سے گزر کر
پہنچا ہوں وہاں میں کہ جہاں کچھ بھی نہیں ہے

یہ عشق کی ظاہر ہو تو ہل جائیں دو عالم
جز چند اشارات نہاں کچھ بھی نہیں ہے

مجھ خوگر بیگانگئ دوست کو عالیؔ
بیگانگئ اہل جہاں کچھ بھی نہیں ہے

جمیل الدین عالی​

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button