سائٹ کا نقشہ
- خواب کے پہلے جھونکے سے
- وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
- سب سے پہلے انہیں رعنائی ودیعت کی ہے
- جب اشک سرِ چشمِ گنہگار کھلے گا
- اڑے تھے ذرے مگر آسمان تک نہ گئے
- حرف و بیاں میں اس لیے مہکارِ نعت ہے
- مرے خدایا!
- گلی کوچوں میں سنّاٹا ہے یا رب خیر کرنا
- رُوئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
- حیرتِ پرتوِ مہتاب سے باہر نکلا
- یہ کیا کہ حالِ دلِ زار اسے سنانے کو
- بڑھا رہے تھے تعلق تو ہم بڑھانے کو
- بابِ حریمِ حرف کو کھولا نہیں گیا
