سائٹ کا نقشہ
- عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
- ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے
- نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
- وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
- وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
- کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
- محبت میں دَغا دوں گا
- اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
- لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
- پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
- معلوم جو ھوتا ھميں انجام محبت
- مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا
- جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا
- میری راۓ میں
