Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کوئی فکر لو نہیں دے رہی
بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے
کیسی دو رنگ ہے یہ شناسائی میرے ساتھ
سوگیا تھک کے چراغوں کو جگانے والا
ہے ایک سیلِ ندامت اس آبگینے میں
تصورات کو تجسیمِ صوت و نور کیا
زنجیر جب پگھلتی ہے سینے کی ہوک سے
یہ رہا تیرا تخت و تاج میاں
وہ روشنی ہے سو اس کا حوالہ ایک نہیں
ایک مخلوق نے اس کی تخلیق کی
نہروں میں وہی آبِ خنک جاری کروں گا
اپنا سمجھیں ، نہ پرایا سمجھیں
جو دل قریب ہو پہلے نشانہ بنتا ہے
اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا
<<
1
...
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
...
701
>>