Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
حُسن کب عشق کا ممنونِ وفا ہوتا ہے
جا ترس آ ہی گیا حشر میں لاچار مجھے
پھر کہو گے تم مقابل کی سزا کے واسطے
اُن پہ ظاہر مرے ارماں کسی عنواں ہوتے
اس کو جانے دے اگر جاتا ہے
وہاں ملو گے یہ مانا جو تم یہاں نہ ملے
میں کھیتوں میں کھیرے کی بیلوں پہ
ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے
ہو گئے ان سے ترک پیام
قسمت کے کب جاگے درباں
یاد رکھ دیدۂ تر اشک جو نکلا کوئی
دنیائے وفا نام سے آباد رہے گی
تربت کہاں لوحِ سرِ تربت بھی نہیں ہے
عداوتوں میں جو خلقِ خدا لگی ہوئی ہے
<<
1
...
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
...
701
>>