Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں
گرانی کی زنجیر پاؤں میں ہے
نظر نظر بے قرار سی ہے، نفس نفس میں شرار سا ہے
چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں
رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں
ساغر صدیقی کے مختلف اشعار
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے
اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں
ہجر موجود ہے فسانے میں
اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے
پھونک دیا بجلی نے گلشن
<<
1
...
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
...
701
>>