Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو
چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے
وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز
خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں
بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
مستی کے پھر آ گئے زمانے
<<
1
...
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
...
701
>>