Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
جب تری خواہش کے بادل
میں دل کی شراب
کوئی بھی کیوں مجھ سے
پیغامِ حسینؓ
حاشیہ
کام کی بات میں نے
جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں
کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج
سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں
ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں
<<
1
...
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
...
701
>>