Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس
وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے
ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی
گھِر کے آخر آج برسی ہے گھٹا برسات کی
حسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا
زمین بدلی ، نہ ہی آسماں بدلا
بازیافت
آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم
دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
راہزن آدمی راہنما آدمی
<<
1
...
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
...
701
>>