Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جیسے راکھ دمک اٹھتی ہے ، جیسے غبار چمکتا ہے
حجرے شکستہ دل ،در و دیوار دم بخود
پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا
یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
قدیم وقت بھی رہتا ہے نوجواں کی طرح
دونوں آنکھوں کی اک اوک بنائی میں نے
لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت
کبھی کبھی مری آنکھوں میں خواب کھلتا ہے
محبوب کے بھی حبیب ہو جاؤ
دل کسی طرح بھی اس بات پہ تیار نہیں
وہ دن گزر گئے ، وہ کیفیت گزرتی نہیں
ابر ملبوسِ آب تھا جیسے
وہ مدتوں کے بعد سرِ راہ مل گیا
بھینس
<<
1
...
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
...
699
>>