Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
وہی ہے گیت ، جزیرے میں جل پری وہی ہے
جھلمل ہے دل میں آج بھی روشن ستارہ کی
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری
جھوٹن
رنگ برنگے لوگ
کس طرح رہے بھرم ہمارا
سوگیا تھک کے چراغوں کو جگانے والا
چشمِ بے خواب پہ خوابوں کا اثر لگتا ہے
کبھی سراب کرے گا،کبھی غبار کرے گا
بکھرے ہوئے رنگ ہیں دھنک کے
اس ایک پل سے گذرنا محال تھا میرا
بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں
تمہی تو ہو جو مرے دل کا آئنہ خانہ
<<
1
...
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
...
699
>>