Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے
تعبیر کچھ تو ہو کبھی میرے بھی خواب کی
سماعتوں کا یہ اعجاز دیکھتی ہوں میں
جب سے ادراک و ہُنر کا مجھ پہ در وا ہو گیا
میری صبح میری رات رہنے دیتے
ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
کب ہمیں تمنّا تھی آنکھ میں بسانے کی
بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
گر ہے تو لمحہ لمحہ یہی اک ملال ہے
میرے اندر خاموشی بولتی ہے
اے ہم نفس بتا تو۔ ۔ ۔
مرے ہم نشیں
شام اُسے بتانا
<<
1
...
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
...
701
>>