Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
بے بسی
یاد
میں خود کی خواہش میں رہنا چاہتی ہوں
اے طلب زاد
رشتۂ جاں ٹوٹنے پر۔ ۔ ۔
بے مہر رفاقت
اُس کے حصارِ خواب کو مت کربِ ذات کر
تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں
کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے
ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ
آنکھ میں مقدارِ خوش بینی زیادہ کیجیے
بستر ہے ناتواں سا جوتا ہے بے سلائی
بے باکیوں پہ شیخ ہماری نہ جائیو
<<
1
...
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
...
701
>>