Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے
سایۂ گُل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
سنتے تھے بیوفائیاں تیری
ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی
ہوئی ہیں گویا گلاب آنکھیں
تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی
اگر مل سکے تو وفا چاہیے
بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے
سوچتے رہتے ہیں ہر دم جو ضرر کی باتیں
وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں
رہتا ہے مری تاک میں آزار کا موسم
ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے
<<
1
...
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
...
701
>>