Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو
میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا
اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیا
آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں
عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں
کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چھانتے
ابر بادل ہے اور سحاب گھٹ
سدھارتھ
کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے
کپتان
یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں
عالم سکر میں جو کہتا ہوں کہنے دے مجھے
<<
1
...
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
...
701
>>