Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ایک دن خواب نگر جانا ہے
دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست
مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے
آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک
میں اسے سوچتا رہا یعنی
دھوم گم گشتہ خزانوں کی مچاتا پھرے کون
کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے
دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا
مشہور تو بس ایک
دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر
اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا
اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیں
کرتے پھرتے ہیں غزالاں ترا چرچا صاحب
اور وحشت ہے ارادہ میرا
<<
1
...
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
...
701
>>