Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
خودی سے پا کے اب فرار دور رہنا ہے
یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے
کسی مٹی کی جانب سے
ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں
ہوا کی دستک
نسل نو میں عدم برداشت
بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے
دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش
ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے
اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں
سوال اب بھی وہی ہے جناب کیسے ہوا
ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا
ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے
<<
1
...
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
...
701
>>