Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
محبت میں دَغا دوں گا
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
معلوم جو ھوتا ھميں انجام محبت
مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا
جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا
میری راۓ میں
<<
1
...
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
...
701
>>