Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
خواب کے پہلے جھونکے سے
وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
سب سے پہلے انہیں رعنائی ودیعت کی ہے
جب اشک سرِ چشمِ گنہگار کھلے گا
اڑے تھے ذرے مگر آسمان تک نہ گئے
حرف و بیاں میں اس لیے مہکارِ نعت ہے
مرے خدایا!
گلی کوچوں میں سنّاٹا ہے یا رب خیر کرنا
رُوئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
حیرتِ پرتوِ مہتاب سے باہر نکلا
یہ کیا کہ حالِ دلِ زار اسے سنانے کو
بڑھا رہے تھے تعلق تو ہم بڑھانے کو
بابِ حریمِ حرف کو کھولا نہیں گیا
<<
1
...
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
...
701
>>