Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں
موسموں کو ہرا کرو صاحب
صبح کا گیت گا رہی ہوں میں
تیرے جیسا نہ کوئی اور ملا تیرے بعد
سیڑھیوں والا پُل
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
نام اُ س نے لیے دُعا میں کہیں
کوئی اپنا تلاش کرتا ہوں
خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور
اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے
پیار میں ڈر کہاں سے لےآئے
اس ضرورت کو سمجھتا هی نہیں
گُلوں کی چھاٶں جیسا هے
<<
1
...
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
...
701
>>