Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
م نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا
جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے
انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے
لہو میں ڈوبا ہوا پیرہن چمکتا ہے
مری زمیں ترے افلاک سے زیادہ ہے
علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں
عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا
لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل
جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے
گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے
ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
<<
1
...
336
337
338
339
340
341
342
343
344
345
346
...
701
>>