Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے
بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے
کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے
تابوت مرا دیر اٹھا اس کی گلی سے
کیا خور ہو طرف یار کے روشن گہری سے
برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے
مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے
<<
1
...
331
332
333
334
335
336
337
338
339
340
341
...
701
>>