Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آچکے
خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے
دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے
کتنے روزوں سے نہ سونے کے ہیں نے کھانے کے
اس باغ بے ثبات میں کیا دل صبا لگے
غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے
کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے
سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے
جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے
بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے
الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے
<<
1
...
332
333
334
335
336
337
338
339
340
341
342
...
701
>>