Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
بود نقش و نگار سا ہے کچھ
آوے کہنے میں رہا ہو غم سے گر احوال کچھ
ہم سے دیکھا کہ محبت نے ادا کیا کیا کی
کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی
ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی
رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی
جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی
آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی
یار بن تلخ زندگانی تھی
وہ رابطہ نہیں وہ محبت نہیں رہی
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی
<<
1
...
329
330
331
332
333
334
335
336
337
338
339
...
701
>>